نئی دہلی۔ 15/ڈسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے قومی شاہراہوں اور سرکاری شاہراہوں سے 500 میٹر تک شراب کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے اپنے اہم فیصلے میں کہا ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں شاہراہوں کے کنارے شراب کی دکانوں کے نئے لائسنس جاری نہیں کریں گی۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ جنہیں شراب کے لائسنس پہلے دیئے جا چکے ہیں ان کے لائسنس کی مدت 31 مارچ کو ختم ہو جائے گی اور ان لائسنسوں کی تجدید قطعی نہیں کی جائے گی۔ کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ شاہراہوں کے کنارے لگے شراب کے سارے اشتہارات اور سائن بورڈ ہٹائے جائیں گے اور ریاستوں کے چیف سکریٹری اور پولیس ڈائریکٹر جنرل کورٹ کے احکامات پر عمل کرانے کی نگرانی کریں گے۔
واضح رہے کہ عدالت عظمی نے اس اپیل پر فیصلہ سنایا ہے جس میں درخواست کی گئی تھی کہ مصنوعات قانون میں ترمیم کرنے کی ہدایت دی جائے، جس سے یہ یقینی بنائی جا سکے کہ شاہراہ کے کنارے شراب کی فروخت نہ ہو۔ اس سلسلے میں ہر سال سڑک حادثات میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی موت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ وہ قومی اور ریاستی ہائی ویز کے کنارے شراب کے ٹھیکے بند کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔